Thursday, April 29, 2010

زبانیں اورکتابیں

زبانیں اورکتابیں
(چراغ بہ کف / خاورچودھری)
زبانوں کے نام پراس دنیا میں بہت امتیازبرتاگیا اوربرتاجارہا ہے'لسانی تفاخراورتکبرکی دوڑ میں ایسے ایسے لوگ شامل ہوئے جنھیں بالعموم معتدل اورخداشناس سمجھاگیا۔ انسانی تاریخ میں ایسے ہزارہاحوالے موجود ہیں کہ انسانوں نے انسانوں کے خلاف محض زبان کے اختلاف کے باعث میدانِ حرب سجایا۔اسی بات کوقدرے تبدیلی کے ساتھ نسلی عصبیت بھی کہاجاتاہے۔قبیلوں اورگروہوں میں بٹی ہوئی انسانیت نے جب اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں سے نفرت کاسلسلہ شروع کیاتوتاریخ نے دیکھا کہ انسان عظمت کے مرتبہ سے گر کر زمین بوس ہوگیا۔ معلوم حقائق وشواہدسے یہ سمجھاجاسکتاہے کہ دراصل ایسے لوگوںکے پیشِ نظر صرف اورصرف اپنی ذات تھی اوروہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے گروہ بندی کے اسیر ہوئے۔عرب وعجم کے کئی ایک قصے اس حوالے سے خاصے مشہور ہیں۔پھرمیرے رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس تفریق کو یک سرمٹا ڈالا اورانسانوں میں برابری کی بنیاد قائم کردی۔ رنگ ونسل اورزبان وبیان کی عظمت کی جگہ صالح کرداروعمل نے لے لی۔
زبان وسیلہ ہے انسانی خواہشات اورجذبات کے پہنچانے کا' پھرہرایک خطے کی مخصوص فضا میں اس کااپناذائقہ اورمٹھاس ہے۔وہ بولیاں جوہمارے لیے بہت اجنبی اور بعض اوقات تفنن طبع کا باعث بنتی ہیں 'بولنے والوں کے لیے انتہائی اہمیت اورقدرکی حامل ہوتی ہیں۔آسان سی بات ہے کہ اگراہلِ عرب اپنی زبان پرفخرکرتے ہیں تواُن کاحق ہے مگرچولستان کے ریگ زاروں میں بسنے والوںکی بولی بھی کسی طرح لائق نفرین نہیں ہوسکتی۔ہاں البتہ بولیوں کے مزاج میںپائی جانے والی کثافت یالطافت توجہ طلب ہوسکتی ہے۔یہی حال دوسری زبانوں کا ہے۔اس خطے میں جہاں ہم رہ رہے ہیں صدیوں تک یہاں کی مقامی بولیوں نے را ج کیا' جب بیرونی حملہ آوریہاں آئے توانھوں نے اپنی مزاج آشنا زبان کو یہاں متعارف کروایا۔ ولندیزیوں' انگریزوں' مسلمانوں' تاتاریوں کی بولیاں ماحول میں اپنا اثرچھوڑنے لگیں۔اس طرح ایک اورثقافت سامنے آئی۔اس آمیزش سے جہاں خوش کن پہلو سامنے آیا وہاں ایک بدصورتی یہ ہوئی کہ بہت سی زبانیں اپنے اصلی صوت اورآہنگ سے دورہوتی گئیں' بعض توبالکل معدوم ہونے لگیں اور ان کی کوکھ میں سے ایک نئی بولی جنم لینے لگی۔
ترکوںکی شان وشوکت کے قصے ان کی اپنی زبان میں عام تھے 'توعربوں کے اُن کی زبان میں۔ہندوستانیوں کی داستانیں ان کی زبان میں مرقوم تھیں۔دنیاجب سمٹنے سکڑنے لگی توزبانیں اوربولیاں بھی ا س عمل سے متاثر ہونے لگیں۔ تمام ترخالص بولیاں نئی زبانوں کی آمیزش سے نیارنگ ڈھنگ اپنانے لگیں۔یوں ایک خاص انداز سے کچھ بولیاں متروک بھی ہوئیں اورکچھ کو جان بوجھ کرنظرانداز کیاجانے لگا۔موجودہ تناظر میں ہمیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ایک خاص حکمت سے اہلِ مغرب نے اپنی زبان انگریزی کو نہ صرف دنیا میں عام کیا بلکہ ہم ایسے کئی ملکوںکے لیے اسے مجبوری بنادیا گیا۔ سائنس اورجدیدعلوم کے حصول کواس سے مشروط کرکے ایک طرح سے رکاوٹ کھڑی کردی گئی(اگرچہ بعض قوموں نے اپنی ہی زبانوں کی بنیادپرترقی حاصل کرکے دنیا کوحیرت میں مبتلابھی کیا)۔اس جدوجہد کے پیچھے صرف برتری کی خواہش ہی کارفرمانہیں تھی بلکہ دنیا کواپنے زیرتسلط لانا تھا اورسب سے اہم بات یہ کہ لسانی اورتہذیبی اعتبار سے دوسروں کو متاثر کرکے انھیں ان کے ماضی سے ہٹاناتھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں اس قوت کوپوری طرح کام یابی حاصل ہوئی ہے۔ آج ہمارے یہاں''انگلش میڈیم'' کالیبل لگاکرہرکوئی خوشی محسوس کرتا ہے اورفخرسے بتاتا ہے۔اسی طرح اگرکوئی انگریزی زبان میں اپنا مدعابیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ اُس کے سامنے والے سبھی جاہل ہیں۔ ایسا ہوا ہے' جب فرنگیوں نے فارسی زبان کی جگہ دوسری زبانوں کو اہمیت دی تووہ تمام صاحبانِ علم دیوار سے لگا دیے گئے جوکبھی اپنے اپنے میدانوں میں کام یاب تھے' یہ جملہ تواَب تک کانوں میں گونجتا ہے'' پڑھوفارسی اور بیچوتیل''۔یہ سب ایک مخصوص ذہنیت کی کارستانی ہے۔آج بھی وہ ذہنیت کام کررہی ہے۔ آج پہاڑوں'صحراؤںاوردوسرے علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والوں کودیکھیے تواندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبانوں پرنادم ہیں۔ دوسروں کے سامنے بولتے ہوئے نہ صرف ہچکچاتے ہیں بلکہ شرم محسو س کرتے ہیں' یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب بولیاں اورزبانیں اپنا وجوداورشناخت ختم کردیتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دنیا کہ ایک سوننانوے زبانیںمعدومی کے قریب ہیں اور ان میں سے بعض زبانوں کوبولنے والوں کی تعداد چند افراد پر مشتمل ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ المیے سے کم نہیں ہے۔مادری زبان کی اپنی اہمیت اورمٹھاس ہوتی ہے۔سرائیکی خاندان میں پیداہونے والے بچے کوانگریزی اورعربی ضرور سکھائی جائے مگر اُسے سرائیکی سے ہر گزمحروم نہ کیاجائے۔ جوزبان اُسے ورثہ میں ملتی ہے اُسے بولنا اوراستعمال کرنا اُس کا حق ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنا آسان ابلاغ مادری زبان میں ہوتا ہے کسی دوسری زبان میں نہیں ہوسکتا۔
کم وبیش یہی صورت حال کتابوں کے سلسلے میں بھی درپیش ہے۔ سہل پسندی کے باعث کتابوں سے ہماری توجہ ہٹتی جارہی ہے۔علم کے خزینے ردی کے ڈھیر بن رہے ہیں اور نئے زمانے کے بیش تر لوگ اپنے اباؤاجدادکے چھوڑے ہوئے ان خزانوں کوگھروں سے فٹ پاتھوں پر منتقل کررہے ہیں۔ میرے لیے یہ اطلاع بہت درد ناک تھی کہ خیبر پختون خوا کے ایک نام ور ادیب جب دنیا سے رخصت ہوئے توان کے اہل خانہ نے ان کاکتابی اثاثہ مزدوروںپرلاد کرفٹ پاتھوں پرمنتقل کیا' یہی نہیں بلکہ اپنے زمانے کے اُس اہم شخص کی تعلیمی اسناد بھی نہ سنبھال سکے۔ابھی چند روز پہلے ہمارے ایک ہم محفل نے انکشاف کیا کہ وہ بھی اس ''کارِ خیر'' سے گزرے ہیں اوراپنے والد مرحوم کی چھوڑی ہوئی کتابیں تنوروں میں جلا کر اُن سے ایندھن کا کام لیاہے۔جب بالعموم صورت حال یہ ہوتوپھریہ شکوہ نامناسب ہے کہ ہم نے اس دنیا میں اپنا وہ مقام نہیں بناپایاجوہمارے اجداد سے منسوب ہے۔
صاف سی بات ہے جب اپنی مٹی اوربولی کواہمیت نہیں دی جائے گی اوران کے مقابلے میں دوسروں کی پیش کردہ زبان کوفخر کے ساتھ اپنایاجائے گاتونتیجہ یہی نکلنا چاہیے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ ''ہیری پوٹر'' تخلیق کرنے والی دُنیا کی امیرترین مصنفہ اس لیے نہیں بنی کہ اُس نے کوئی اَن ہوناکام کردیا ہے بلکہ وہ اس مقام تک اس لیے پہنچی ہے کہ اُس کا معاشرہ نہ صرف اپنی زبان پرفخر کرتا ہے بلکہ وہ اپنے لکھنے والوں کا قدردان بھی ہے۔ ہمارے یہاں معروف مصنفین کی کتابیں بھی ایک ہزار سے زاید کی تعداد میں شائع نہیں ہوتیں اور اپنا سفر سال ہاسال جاری رکھتی ہیں۔ ہزار میں سے دس افراد ہوں گے جوکتاب خریدکرپڑھتے ہوں گے ورنہ یہ رجحان ہی نہیں۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ لکھنے پڑھنے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کتاب خریدکرپڑھنے کوعادت نہیں بناتے اورجن لوگوں کوتحفةً کتابیں ملتی ہیں وہ ان کے ہاتھوں سے ہوکرفٹ پاتھوں پرمقام بنا لیتی ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ وہی قومیں زوال آشنا ہوتی ہیں جواپنی اصل سے ہٹتی ہیں۔ہماری اصل علم ہے اورعلم زبان اورکتاب کے ذریعے سے راستہ بناتاہے۔