شاباش!لگے رہو
چراغ بہ کف/خاورچودھری
''تیزرفتاری باعث ہلاکت ہے'' یہ جملہ بالعموم شاہراہوں پرلکھا ہوتا ہے ۔اسی مفہوم کوواضح کرنے کے لیے یہ بھی درج ہوتا ہے'' کبھی نہ پہنچنے سے دیرسے پہنچنا بہتر ہے۔'' یہ جملے منطقی نتائج کے بعد اخذ کیے گئے ہیں اورزمانے کے تجربات کانچوڑ ہیں۔اس حوالے سے کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔ ہم اپنی زندگیوں میں خودتیزرفتاری سے ہونے والی ہلاکتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ہم میں سے بیش تر ایسے ہوں گے جواسی سبب سے اپنے آپ کو معذورکربیٹھے ہوں گے اور کتنے ہی ایسے ہیں جواپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔تیزروگاڑیاں کبھی کبھار معمولی اسپیڈبریکر(رکاوٹ) سے اُچھل کردُورجاگرتی ہیں۔یہی کلیہ زندگی کے دوسرے شعبوں پر بھی لاگوہوتا ہے' یعنی جوشخص جتنی تیزی کرے گااُسے اُتنی ہی تھکن اورمشکل پیش ہوگی۔اسی باعث ہمیں اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے۔
اقتدار کی دوڑ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے' جوشخص جتنی تیزی سے اپنے آپ کومضبوط یاپھرحاوی کرنے کی کوشش کرتا ہے 'اُسی رفتارسے واپس پلٹ جاتا ہے یاپلٹا دیاجاتاہے۔ انسانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔خودہمارے یہاں ایسی کتنی ہی مثالیںموجود ہیں۔تیزرفتاری کاایک نقص یہ ہوتا ہے کہ اس میں انسان بہترفیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔آپ مشاہدہ کریںتواندازہ ہوگا اکثرحادثات اورواقعات ناقص فیصلے کی وجہ لیے ہوئے ہیں۔ان حالات سے ہرایک واقف ہے مگراس کے باوجود بھی لوگ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں سے دوگام آگے ہوں۔حکم رانوں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے اوراُن کی یہی خواہش اُن کومنظرسے ہٹابھی دیتی ہے۔
میاں نوازشریف نے اپنے دوسرے دور میں کیاکیاتھا؟ یہی ناں کہ اپنے بھاری مینڈیٹ کے بوٹوں تلے اداروں کو کچلنے اورشخصیات کومطیع رکھنے کامظاہرہ کیا اوراس مظاہرے میں ضرورت سے زیادہ تیزرفتاری کواپنایا۔اس دوڑ میں سپریم کورٹ پرچڑھائی بھی کرڈالی۔پھربارہ اکتوبرکوحاضر سروس آرمی چیف سے اُلجھاؤکامعاملہ ہواتواپنے ساتھیوں اور بہی خواہوں سمیت اٹک قلعے میں مقیدہوئے۔ اَبھی تک نفسیاتی اوراخلاقی دباؤ میں ہیں۔پرویزمشرف کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔بارہ اکتوبرکے بعداکثرسیاسی جماعتوں اورعام لوگوں نے فوج کی آمد پرمٹھائیاں بانٹی تھیں اورایک بڑی تعدادآمرکے ساتھ ہوگئی تھی۔اگریہ جرنیل خود کوقومی خدمت اورقوم کی فلاح تک محدود رکھتا تواس میں شبہے کی گنجائش نہیں کہ قوم اس کے ساتھ ہوتی۔اس لیے کہ قوم منظرنامے پرموجود دونوں سیاسی جماعتوں کو دو دو دفعہ آزما چکی تھی اوریقینی طور پران سے نالاں تھی۔پرویزمشرف خودپرقابورکھنے میں ناکام ہوا۔ اُس نے کئی ایک مرحلوں پر تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا۔مساجدومدارس کے خلاف کارروائیاں شروع کیں توتمام اخلاقیات اورحدودکوپامال کردیا۔لال مسجدکے سانحے میں توکسی بھی اخلاقی قدر کو سامنے نہیں رکھا گیا۔اپنی اسی دُھن میں جب ایسا ہی ایک عمل اُس نے چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کومعزول کرکے دہرایا تووہ یہ بھول گیا کہ اُس کے سامنے ایک سپیڈبریکربھی ہے جو اُسے سڑک سے اٹھا کرگہرے گڑھوں میں ڈال سکتا ہے۔ہم نے دیکھا کہ پھرایسا ہی ہوا۔وہی لوگ جوکبھی اُس کی طاقت میں اضافے کے باعث تھے اوراُس کے ساتھ ہم قدم تھے' اُسے چھوڑتے گئے۔مآل کاروہ تنہاہوا اوربُری طرح شکست خوردہ ہوکرملک سے بھاگ گیایابھگادیاگیا۔اَب منظرنامے پراُس کی حیثیت ایک نقطے سے زیادہ نہیں ہے۔
بدقسمتی سے یہی کھیل موجودہ حکم ران کھیل رہے ہیں۔سبک پروازی میں اَن دیکھی منزلوںکوپالینے کی خواہش میں ایسے ایسے منظرظاہرہورہے ہیں جن سے خوف اوروحشت کی بوبھی آتی ہے مگرحکومت کوایک ہی دُھن ہے' وہی دُھن جوسبک مزاجوں کوہوتی ہے۔ ساعتوں میں پوری قوم' اداروں اورشخصیات کوفتح کرنے لینے کی وہی خواہش جوماضی کے حکم رانوں کوتھی اورجس کے نتائج بھی سورج کی طرح روشن ہوکرہمارے سامنے آچکے ہیں۔خودتجربگی کا عادی یہ طبقہ قوم کومشکلوں میں ڈالنے جارہا ہے۔انجام وہی ہوگاجوپہلے ہوتاآیا ہے۔ کیوں کہ ان کے لیے جیل بھی عیش خانہ ہے اورمحل بھی۔اقتدار میں ہوتے ہیں تواپنی قوم کاخون پسینہ چوستے ہیں اوراقتدارسے باہرہوں تو پس انداز کیے گئے خزانے کونکال لاتے ہیں ۔ یورپ'امریکا اوردبئی میںخوش پوشی کی زندگی گزارتے ہیں' عذاب سے توقوم گزرتی ہے۔صرف نوے کی دہائی کی شروعات سے اَب تک کے زمانے کاجائزہ لیں تواندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس قدراذیت ناک حالات سے گزرے ہیں اوراَب ہم دنیا کی دوڑ میں سب سے آخرہیں۔ بے ایمانی'جھوٹ'بدعنوانی اوراقرباپروری میں سب سے آگے ہیں۔مالی اوراخلاقی بحران نے پورے معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اوریہ سب کیا دَھرانااہل 'ہٹ دھرم اور تیزگام چلنے والے حکم رانوں کا ہے۔
کوئی ایک مسئلہ ہوتونظراندازکیاجائے' یہاں تومسائل کاایک سلسلہ ہے'لامختتم ولامنتہیٰ۔تاہم عدلیہ کے ساتھ محاذآرائی سب سے نمایاں ہے۔این آراوکے قضیے اور سوئس مقدمات کے ضمن میں توفضا پہلے سے ہی آلودہ ہے۔عدالت چاہتی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے 'حکومت پہلوبچارہی ہے۔اَب وفاقی وزیرقانون کی عدالت میں طلبی تک بات پہنچ چکی ہے۔ دوسری طرف جھوٹے اورمکار سیاست دانوں کی جعل سازی ظاہرہونے پرعدالت انھیں ایوانوں سے دُوررکھناچاہتی تھی مگرسیاسی جماعتوں اورحکومت نے عدلیہ کی اس خواہش پربھی مٹی پھیردی۔پھرسزایافتہ وزیرداخلہ کی سزائیں عدالت نے بحال کیں توآن کی آن میں صدرآصف علی زرداری نے اپنے خصوصی اختیارات کواستعمال کرکے انھیں معاف کردیا۔ان ساری تیزرفتاریوںکے آگے سپیڈبریکر ہیں مگرحکومت کی نظروں سے اوجھل ہیں۔عن قریب کوئی رکاوٹ اسے مشکلوں میں ڈال دے گی اورپھرسارا دوش'' جمہوریت دشمن'' قوتوں کودیاجائے گا۔اُن تجزیہ کاروں اوردانش وروں کی رائے پرحیرت ہوتی ہے جویہ چاہتے ہیں کہ عدلیہ جمہوریت کے لیے قربانی دے۔بدقسمتی سے اس کامطلب وہ یہ نکالتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے جائزوناجائزکاموںکوتحفظ دیاجائے اورحکومت جتنی بھی مناسب ونامناسب پیش قدمی کرے عدلیہ اُس کی پشت پررہے۔اگرایساہی ہونا ہے توپھرجمہوریت کے کیامعنی ہوئے اورآزادعدلیہ کی کیاخواہش؟کس قدرافسوس ہوتا ہے جب کوئی یہ کہتا ہے کہ''عدلیہ کوجمہوریت کاکوئی فہم نہیں۔'' اگرقوم' سیاست دانوں نے عدلیہ کی بحالی مہم میں حصہ لیا ہے تواس کے محرک اوراولیں دستے میں خودعدلیہ سے وابستہ لوگ بھی شامل تھے اوراُن کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عدلیہ محض اُس کے تحفظ کے لیے بحال ہوئی ہے تو یہ ایک غلط اورآمرانہ خیال ہے۔سیاست دانوں کواس سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔
ستم آمیزبات یہ ہے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کارویہ بھی دوغلا ہے۔جب اپنے آپ پربات آئی تولانگ مارچ کرڈالا اورحکومت بحال ہوئی توساری لاقانونیت اوربداخلاقی کوبھلا بیٹھی۔ایک طرف چودھری نثارعلی خان آصف علی زرداری کو''خود کش بمبار''سے تشبیہ دیتے ہیں تودوسری طرف ان کے سربراہ وزیراعظم کوہرقسم کے تعاون کی یقینی دہانی کرا دیتے ہیں۔گویا دونوں کے اپنے اپنے اہداف ہیں اورانھیں اسی طرح حاصل کیاجاسکتا ہے۔میں بلاخوف تردیدکہتاہوں کہ اس کاانجام دونوں کے لیے بھیانک ہوگا۔
حکومت کی طرف سے ایک خیال یہ ظاہرکیاجارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اُس کے ساتھ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی شوشہ چھوڑدیاجاتا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو گی۔اسی بنیادپروہ خود کومضبوط تصورکرتی ہے اور خیال کی یہی وہ کجی ہے جوراستے کی رکاوٹ نظرنہیںآنے دیتی۔نوازلیگ اوردوسری جماعتوں کی طرف سے خاموشی یا''رضامندی'' کو حکومت اپنے لیے تریاق سمجھتی ہے مگرحقیقت میں ایسا ہے نہیں۔حکومت کواندازہ اس وقت ہوگاجب اس کاایک پاؤں کنویں میں ہوگا۔عدلیہ کومجبورکرنے کی کوئی بھی کوشش خود حکومت کے نقصان کاسبب بنے گی اوراگرحکومت یہی چاہتی ہے توپھرشوق سے تیزرفتاری کاسفرجاری رکھے اوراس مہم جوئی میں لگی رہے۔
No comments:
Post a Comment