Thursday, June 10, 2010

قہوہ پیئوگے؟

قہوہ پیئوگے؟
(چراغ بہ کف/ خاورچودھری)
یہ مت سمجھیے گا کہ میں کسی''چائے ساز'' کمپنی میں ملازم ہوگیا ہوں اوراُس کی اشتہاری مہم کالموں کے ذریعے چلانے کاذمہ لے بیٹھا ہوں اور یہ خیال بھی دل میں مت لائیے گا کہ میں کسی حکیم بڑے صاحب کے مجرب نسخوں کی تشہیری مہم کا حصہ بن گیا ہوں اور یہ بھی دھیان میں رہے کہ میں قہوہ کے فوائد نہیں گنوانے جارہے ہوں۔میں تومحض یہ پوچھناچاہتا ہوں کہ اس گرم ترین موسم میں اگرآپ کے سامنے قہوہ کی پیش کش رکھی جائے توکیا قبول کرلیں گے؟ نہیں ناں! مگربہت سے ایسے ہیں جواس پیش کش کونہ صرف قبول کرلیتے ہیں بلکہ بالاصرارطلب کرتے ہیں' اب اس میں ایسی کیا خاص بات ہے یہ پینے والے ہی بتاسکتے ہیں۔ہمارے دفتر میں بھی قہوہ پلایا جاتا ہے'کوئی چائے کی فرمائش کربیٹھے توہماری تیوریاں چڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ چائے سے پینے والے کی صحت خراب ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ ہمارے خلوص کوٹھکرادیاجاتا ہے۔ ہم انتہائی محبت سے قہوہ کی پیش کش کرتے ہیں اور جواباً کہا جاتا ہے'نہیں میں تودودھ پتی پیئوں گا۔' ہمارے جی میں آتا ہے اس دودھ پتی میں مکس پتی والاپان ملاکرپلادیاجائے تاکہ جو پیا پلایا ہوسب باہرآجائے مگرکیاکیجیے کہ مہمانوں کی تواضح بھی توتہذیب کاحصہ ہے۔پرسوں کی سنیے ' راولپنڈی کے ایک اخبار کے چیف ایڈیٹرمحمد مسکین بٹ(جن کے ساتھ میں بھی کام کرچکاہوں)نے بتایا کہ خان صاحب اُن کے ہاں آئے تو عجیب تماشاہوا۔ انھوںنے خان صاحب سے پوچھاٹھنڈایاگرم؟ توجواب میں خان صاحب نے کہاآپ کھانا کھلادیں' چائے میں منظورکے ہاں پی لوں گا۔بہ قول بٹ صاحب'' دیدے پھٹنے کوآگئے'' کہاخان صاحب چائے بھی یہیں پی لیجیے گا توکہنے لگے'دوستوں کے حقوق ہوتے ہیں'اب منظورکادل تونہیں توڑاجاسکتا۔جب سلسلۂ تکلم جاری تھا توہم بٹ صاحب کے لیے قہوہ تیارکررہے تھے۔کل ایک اوردلچسپ بات ہوئی۔زوہیرعباس کوآپ جانتے ہیں؟نہیں'کوئی بات نہیں۔ میں بتاتا ہوںزوہیرعباس نوجوان صحافی ہے اورمیرے ساتھ ہوتا ہے۔یہ دلچسپ اورفکرانگیزبات اسی کے ذہن کاکرشمہ ہے۔پیشین(ظہر) کی نمازپڑھ چکنے کے بعد میں نے اُس سے کہاقہوہ بنادوتوکہنے لگا''پانی پی لیں ویسے ہی ان دنوں گرم ہوتا ہے اورقہوہ کابرابرلطف دیتا ہے۔میں نے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا احتیاطاً تین کپ تیارکرناکوئی آبھی سکتا ہے۔جب برقی جگ میں ڈالا گیاپانی جوش کھانے لگا تو اُس نے ایک ٹی بیگ اُس میں ڈال دیا اور ساتھ ہی کہنے لگا''اَب زرداری قوم سے مزید کیاچاہتا ہے؟ ہم ایک ٹی بیگ سے تین کپ قہوہ بناتے ہیں۔''اگرچہ میرے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل چکی تھی مگربات توبہ ہرحال فکرمندی کی تھی۔
اَب ایک طرف یہ بپتا ہے اور دوسری طرف قوم کی وہ اشرافیہ ہے جواپنے کتوں اورپالتوجانوروں کے لیے روزانہ ہزاروں روپے کی خوراک 'امپورٹ' کرتے ہیں۔غیر ضروری اور لایعنی باتوں پرکروڑوں روپے خرچ کرڈالتے ہیں۔ بات یہاں تک ہوتوآدمی خاموش بھی رہے مگرجب یہی لوگ ایوانوں اورکرسیوں پربراجتے ہیں توہمارا خون نچوڑنا شروع کردیتے ہیں اورپھراسی خون کواپنی شاہ خرچیوں پراُڑاتے ہیں۔صرف ایک مثال دیکھ لیجیے کہ حالیہ بجٹ اجلاس میں شریک ہونے پرایک ایک رُکن اسمبلی کے حصے میں لاکھوں روپے آئیں گے اور مجموعی طورپراس اجلاس کے دوران ان پر6کروڑ83لاکھ33ہزار652روپے خرچ ہوں گے۔اگرکوئی رکن شریک نہیں ہوگاتب بھی وہ اپنا حصہ لینے کا حق دار ہو گا اورسب سے بڑھ کریہ کہ انھیں فائیواسٹارہوٹل کاکھانا بھی پیش کیاجاتارہے گا۔اکیس دن جاری رہنے والے اس اجلاس میں کھانے پر17لاکھ سے زایدخرچ ہوں گے۔جوتخمینہ سامنے آیا ہے'اس کے مطابق ایک رکن اسمبلی اس اجلاس کے دوران قوم کودولاکھ روپے میں پڑے گا اورسفری ودیگرالاؤنس کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے لینے کا حق دار بھی ہوگا۔ وزیروں مشیروں کو اسی تناسب سے دیکھاجاسکتا ہے۔ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات بہ دستورہمارے خون سے پورے کیے جائیں گے اور ان کے حصول کے لیے ہمارے کندھوں پر ٹیکس اور مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیاجائے گا۔یہی وہ فرق ہے جوزوہیرعباس کوایک ٹی بیگ سے تین کپ قہوہ بنانے پرمجبورکرتاہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی ایک سفارش میںکہاتھا کہ'' حکم رانوں'عدلیہ اور افواج کے افسران کی تنخواہوں کی مسلسل بڑھوتری خلاف انصاف ہے' اسلام اس واضح فرق کی اجازت نہیں دیتا۔'' بجاسہی مگرنقارخانے میں توتی کی کون سنتا ہے؟چیختے رہیے'چلاتے رہیے'ان ہڈحراموں نے ہماری چمڑیاں ادھیڑ کراپنے لیے جوتے بنانے کافن نہیں چھوڑنا۔یہ ہمارے جسموں سے خون نچوڑ کرہمارے چہروں کومدقوق کرکے چھوڑیں گے۔یہ ہمارے آنے والی نسلوں کوآئی ایم ایف اورورلڈبنک کاکاسہ لیس بناکے رہیں گے۔یہ اس خطۂ آباد کو بنجر و بے آب کرکے رہیں گے۔کوئی دن جاتا ہے ہمارے تمام ادارے دوسروں کے پاس گروی ہوں گے اورخدانہ کرے یہی حالات رہے توبراہِ راست حکم رانی دوسروں کی ہوگی اور ہمارے حکم رانوں کی حالت کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہوگی۔مجھے تویہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں تاریخ اپنے آپ کودہراناشروع نہ کردے اورہمارے حکم ران ایک بارپھر کہیں انگریز کے وظیفہ خوار نہ ہو جائیں۔بجٹ میں جوکچھ ظاہر ہوا اس اندازہ ہوتاہے کہ اس طبقے کوقوم کاکچھ خیال نہیں۔سرکاری ملازمین کی تعدادہے ہی کتنی ؟ اورپھرجب پنجاب یہ کہے کہ وہ اس کی بھی سکت نہیں رکھتا تووفاق کایہ اعلان بھی محض اعلان ہی ہوا۔اَب باتوں پرخوش ہولینے سے توکام بنے گا نہیں۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قانون سازاداروں کے یہ ارکان بڑے کام کے ہیں اوران پر''معمولی'' سی رقم خرچ ہوجائے توکوئی بڑی بات نہیں' لیکن میں اس کے جواب میں صرف اتنا کہوں گاکہ کبھی کوشش کرکے ان اجلاسوں کی کارروائی دیکھ لی جائے' وہاں تک پہنچ نہ ہوسکے توپھراخبارات میں ان لوگوں کے بیانات ہی پڑھ لیے جائیں'اس سے اندازہ ہوگا کہ یہ کس قدراہم مخلوق ہے اوریہ لوگ کتنے کارآمد ہیں۔ صرف راناثناء اللہ اورگورنرسلمان تاثیرکی خرافات پڑھ لی جائے' جیسے یہ تازہ ترین''گورنرپنجاب کوسستی روٹی کابخار ہوگیا ہے جواب سرسام میں تبدیل ہوچکاہے اور میرااُن کے لیے نسخہ ہے کہ وہ صبح نہارمنہ سستی روٹی اور عرق گلاب کاپیک'دوپہراورشام کوکھانے کے بعدجوکچھ''پیتے '' ہیں پیئیں اور ماڈلز کے ساتھ اٹھ کھلیوں اورڈانس پارٹیوں سے پرہیزکریں۔''اس کے جواب میں پیپلزپارٹی والوں نے جوکہا وہ بھی سُن لیجیے''راناثناء اللہ دماغی توازن کھوچکاہے'اُسے وزارت چھوڑ کر ہیرا منڈی میں سنیاسی کی دکان ڈال لینی چاہیے۔اسے کسی قابلیت نہیں بلکہ انھی نسخوں کی وجہ سے وزیر بنایا گیا ہے۔ میاں نوازشریف نے راول پنڈی'فیصل آباد'ڈیرہ غازی خان اوررحیم یارخان میں کتے پال رکھے ہیں۔جس وقت لاہور میں دہشت گردی کی کارروائی ہوئی عین اسی وقت پنجاب کی ایلیٹ فورس کی بڑی تعدادمیاں شہبازشریف کی گرل فرینڈ کی سیکورٹی پر مامورتھی اور اسے پروٹوکول دے رہی تھی۔''
صاحبو! ان دونوں بیانات کوپڑھو اور سر دھنو اور اپنے آپ پرماتم کرو۔انھی لوگوں کوہم منتخب کرکے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اور یہی وہ ہیں جنھیں بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں۔ اگرذراہوش مندی سے ان بیانات کودیکھاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ فریقین کا تعلق بہ ہر طور ہیرامنڈی سے ضرور ہے۔ورنہ ایک دوسرے کواورمختلف شہروں کویوںنام لے کرکوئی اس طرح نہ بک رہا ہوتا' قوم کی توہین نہ کررہا ہوتا۔ خیر! آپ قہوہ پیجئے' کیوںکہ اس سے زیادہ میں اورآپ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

No comments:

Post a Comment